Create New Playlist

Add a cover pic of your own choice

(Optional)

Name

AI Cover Generator

4 credits

Not enough credits (0/4).

Logout

Are you sure you want to Logout?

Close

شفیق الرحمن اور صفوان کی محبت 2 by Md

SongGPT
شفیق الرحمن اور صفوان کی محبت 2 by Md - Urdu Romantic music cover art

شفیق الرحمن اور صفوان کی محبت 2

Urdu Romantic

0:002:57
Lyrics
Description

[Verse 1] شام کی وہ ٹھنڈی ہوا میں چلتے ہیں شفیق اور صفوان، آنکھوں میں چھپی کہانیاں، لبوں پر چپ کا ساز ہے۔ رات کی تنہائیاں، دو دلوں کے درمیان چپ-چپ سی بات ہے، گلی کے اس کونے میں کسی نے محبت کی صدا دی ہے۔ [Pre-Chorus] چھو کر ہاتھوں کو، لو میں نے چھپایا خوابوں کو، بیچ بھیڑ کیا ہمیں پتا یہ راز خوابوں کا سنبھالا ہے۔ کتنی بے خبری میں، تنہا پلوں کی گواہی ہے، جیسے کوئی خاموشی میں بھی محبت کہہ رہا ہو۔ [Chorus] شفیق اور صفوان کی محبت، وہ خوشبو سی ہے رقصاں دلوں میں، جیسے ملتے ہیں دھوپ کے سائے تاروں کے گمنام ۔ کسی نے نہ سنا یہ تو شاید، بس دو دلوں کی چپ ہے، شفیق اور صفوان کی محبت، فسانہ ہے جو کبھی نہ ختم ہو۔ [Verse 2] ہے کوئی پل جب صدا دیتی ہیں یادیں تو خاموشی میں، ہاتھوں کی تھام میں چھپی خوشبو، گزرے لمحوں کی داستان ہے۔ چاہت کے ان پہلوؤں میں، خواب دیکھتی ہے نیند بھی، روشنیاں جاگتی ہیں دھڑکنوں میں، چمکتی ہیں آنکھوں کی چمک میں۔ [Pre-Chorus] لمس وہی ہے جو کبھی ملے نہیں لیکن محسوس ہوا ہے، چہرے کے نقوش میں چھپی ہوئی، جیتنے لمحے سندیق کی طرح۔ دھوپ چھاؤں کی کہانی ہے، جو دل کے تاروں میں بجاتی ہے، بھولا ہوا رستہ بھی اب دلچسپ سا لگتا ہے۔ [Chorus] شفیق اور صفوان کی محبت، وہ خوشبو سی ہے رقصاں دلوں میں، جیسے ملتے ہیں دھوپ کے سائے تاروں کے گمنام ۔ کسی نے نہ سنا یہ تو شاید، بس دو دلوں کی چپ ہے، شفیق اور صفوان کی محبت، فسانہ ہے جو کبھی نہ ختم ہو۔ [Bridge] رات کی چاندنی میں کھو گئے، جیسے خوابوں کے درمیاں، ہر پل ساتھ چلنے کا وعدہ دلوں نے چھپا رکھا ہے۔ لمحے جو کبھی نہ بھولیں، چھپائے ہیں گہرائی میں، دھوپ کا وعدہ ہے وہ، جو سایوں میں بھی جیتا ہے۔ [Chorus] شفیق اور صفوان کی محبت، وہ خوشبو سی ہے رقصاں دلوں میں، جیسے ملتے ہیں دھوپ کے سائے تاروں کے گمنام ۔ کسی نے نہ سنا یہ تو شاید، بس دو دلوں کی چپ ہے، شفیق اور صفوان کی محبت، فسانہ ہے جو کبھی نہ ختم ہو۔ [Outro] شفیق کے ہوںٹھوں سے ہنسی فیضلی، صفوان کی چھُپائی ایک سنسار جیون کی راہوں میں، یہی صفور، یہی پیار، یہی یاری کا انتجار۔