Create New Playlist

Add a cover pic of your own choice

(Optional)

Name

AI Cover Generator

4 credits

Not enough credits (0/4).

Logout

Are you sure you want to Logout?

Close

تین دوستوں کی یاد 2 by Mv

SongGPT
تین دوستوں کی یاد 2 by Mv - Urdu Folk Ballad music cover art

تین دوستوں کی یاد 2

Urdu Folk Ballad

0:002:57
Lyrics
Description

[Intro] خیموں کی ہوا، دورِ ہجرت کا سفر، دل میں ایک روشنی سی جلتی ہے، تیز شاموں میں وہ ہنسی، وہ وعدے — آج بھی کانوں میں گھومتی ہے. [Verse 1] کہاں سے آئے تھے ہم، کتنے خواب لے کر ہاتھ میں، ہجرت کی راہوں میں، تین ہمسفر، اک ہی رات میں. محمد عمر تھا خاموش مگر عزم میں پکا، سید الاسلام تھا وہ جو دشمن کے سامنے کھڑا ہوتا. نورالآ مین کی مسکان میں محبت کی داستاں، آٹھ سال کی کہانی بن گئی، خیمے، رستے، اور نشاں. [Pre-Chorus] روٹی کی تقسیم، تیز ہوا میں گرم باتیں، ایک دوسرے کے لئے جان، دل سے جو باتیں. جب عمر کے خلاف کوئی ہوا تو سید الاسلام کی آہٹ کافی تھی، نورالآ مین کی ہنسی میں گھر تھا سکوں، دل کی چھاپ تھی. [Chorus] یہی ہیں ہمارے ساتھی، محمد عمر، سید الاسلام، نورالآ مین، یادوں کے گیت گنگنائیں، بن کے روشن شام و سحر میں. وعدہ ہے نہ جدا ہوں گے، نہ جھگڑا، نہ بچھڑ جائیں گے ہم، دوستی کا نام رہے گا، دلوں میں زندہ رہے گا یہ نام. [Verse 2] صبحوں کی نماز، شاموں کی محفل، ہاتھوں میں گرم چائے کے کپ، کیمپ کی چھوٹی باتوں میں ہم نے پلایا اپنا خواب و عقاب. کبھی تلخیاں آئیں، مگر وعدوں کی زنجیر نے باندھا رکھا، ایک دوسرے کی مدد میں چھپا ہر پچھتاوا، ہر دکھ مٹا رکھا. اب عمر نکل پڑا ہے طلبِ علم کے راستوں پہ، تنہا مگر روشن، اس کے قدموں کے نشان ہم پر، اس کی آنکھوں میں ہم سب کی نشان. [Pre-Chorus 2] خط لکھے گئے، دعائیں بھیجی گئیں، راتوں کو ستارے گواہ تھے، سید الاسلام کی آواز میں ہمت، نورالآ مین کی صورت میں چاہت تھی. اب یادوں کے میلے میں، سینے پہ امیدوں کا ديپ جل رہا ہے، دوری نے سکھایا ہے پیار کی گہرائی، قربت کا مطلب کھل رہا ہے. [Chorus] یہی ہیں ہمارے ساتھی، محمد عمر، سید الاسلام، نورالآ مین، یادوں کے گیت گنگنائیں، بن کے روشن شام و سحر میں. وعدہ ہے نہ جدا ہوں گے، نہ جھگڑا، نہ بچھڑ جائیں گے ہم، دوستی کا نام رہے گا، دلوں میں زندہ رہے گا یہ نام. [Bridge] کبھی جب راستہ کٹھن ہو، یاد کر لینا وہ دنِ پہلا، خیموں کی چھاؤں، ایک ہی دائرہ، ایک ہی سارا فضا. سید الاسلام نے کھڑے ہو کر جو دیا تھا جواب ہر تلخ لمحے میں، وہی حوصلہ عمر کے ساتھ، یہی سرگوشی نورالآ مین کی ہنسی میں. وعدہ اک دستخط کی طرح، دلوں پر کندہ، وقت کا امتحان جِتا، اور یہ گیت میں سناؤں گا، جب بھی دل میں یادوں کا در کھلے گا. [Chorus (Final)] یہی ہیں ہمارے ساتھی، محمد عمر، سید الاسلام، نورالآ مین، یادوں کے گیت گنگنائیں، بن کے روشن شام و سحر میں. وعدہ ہے نہ جدا ہوں گے، نہ جھگڑا، نہ بچھڑ جائیں گے ہم، دوستی کا نام رہے گا، دلوں میں زندہ رہے گا یہ نام. [Outro] کیمپ کی راہ، وہ خیمے، وہ راتیں — سب کہیں دور سہی، پر یادیں ہیں زندہ، ہم ایک دوسرے کے دیے ہوئے تھے، ہمیشہ رہیں گی. میں محمد عمر، یہ گیت سُنا کر، ذکرِ دوست رکھوں گا جاں سے، سید الاسلام اور نورالآ مین — تم ہو دل کے قریب، ہمیشہ کا مان.